مہدوی عدن

مہدوی عدن

31-10-2022

20:48

پریس کانفرنس ۔۔۔۔ یہ 2010 کا زمانہ ہے امریکیوں کو سن گن مل چکی تھی کہ اسامہ پاکستان میں چھپا ہوا ہے چنانچہ سی آئی اے نے ہزاروں کی تعداد میں کانٹریکٹر بھرتی کیے‘ امریکا میں موجود پاکستانی سفیر حسین حقانی سے ویزے لگوائے اور یہ کانٹریکٹرز پاکستان کے

مختلف شہروں میں پھیلا دیے گئے۔ 2010-11ء میں صرف اسلام آباد میں ہزار سے زائد کانٹریکٹرز تھے۔ یہ لوگ پرائیویٹ گھروں میں رہتے تھے امریکی سفارتخانے کے کاغذات استعمال کرتے تھے بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرتے تھے اور انھیں راستہ روکنے یا مزاحمت کرنے والوں کو

گولی تک مارنے کی اجازت تھی ریمنڈ ڈیوس بھی کانٹریکٹر تھا یہ کسی خفیہ مشن کی تکمیل کے لیے لاہور پہنچا یہ لاہور کے امریکی قونصل خانے میں رہتا تھا قونصل خانے کی گاڑیاں استعمال کرتا تھا اور سارا دن شہر کے مختلف حصوں میں پھرتا رہتا تھا یہ 27 جنوری 2011ء کی صبح پرائیویٹ کار پر قونصل

خانے سے نکلا ایجنسی کے دو نوجوانوں محمد فہیم اور فیضان حیدر نے اس کا پیچھا کیا یہ پریشان ہو گیا اور اس نے مزنگ کے قرطبہ چوک پر دونوں نوجوانوں کو گولی مار دی۔ ریمنڈ گولی مارنے کے بعد گاڑی سے اترا اور اس نے موبائل سے ان دونوں مقتولین کی تصویریں بنائیں ریمنڈ ڈیوس کو

ریسکیو کرنے کے لیے قونصل خانے سے خصوصی ٹیم نکلی یہ ٹیم سفید رنگ کی ٹویوٹا لینڈ کروزر میں سوار تھی انھوں نے ون وے کی خلاف ورزی کی نوجوان عبادالرحمن ان کی گاڑی کی زد میں آیا گاڑی نے اس کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری اور یہ نوجوان گاڑی تلے روندا گیا لوگ اکٹھے ہوئے پولیس آئی

اور ریمنڈ ڈیوس گرفتار ہوگیا۔ اس کے بعد کی کہانی ریمنڈ ڈیوس اپنی کتاب دی کنٹریکٹر میں لکھتا ہے کہ اس کے رہا ہونے میں سب سے اہم کردار جنرل پاشا نے ادا کیا۔ لکھتا ہے میں بہت خوف زدہ تھا اور آخری پیشی کی رات سویا نہ تھا مجھے ڈر تھا کہ صبح مجھ پر فرد جرم

لگا کہ پھانسی کی سزا سنا دی جائے گی۔ 23جنوری 2011 امریکی چیف آف آرمی اور پاکستانی چیف آف آرمی کی ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی لیکن اس کا ایجنڈا افغانستان کی صورت حال تھا اس دن صرف یہ بات ہوئی کہ قانون میں کوئی طریقہ ڈھونڈ کر مجھے نکالا جائے یہ ملاقات عمان میں ہوئی

ریمنڈ ڈیوس مزید لکھتا ہے کہ پاشا امریکی سفیر کیمرون اور سابق سربراہ سی آئی اے لیون پینٹا سے مسلسل رابطے میں تھے ۔ جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ میرے خلاف یہ مقدمہ مفت لڑ رہے تھے اور بڑے مضبوط دلائل دے رہے تھے اس کا کہنا تھا کہ میں نے فیضان حیدر کو

ناجائز قتل کیا ہے اور مجھے اس کی سزا ملنی ضروری ہے ۔ مقتولین کے ورثا صلح کو تیار نہ تھے اور اسد منظور بٹ ان کو مسلسل انصاف دلوا نے کی یقین دہانی کروا رہا تھا 14 مارچ 2011 کو جنرل شجا ع پاشا نے مقتولین کے گھر کے 18 لوگوں کو اٹھا لیا اور کوٹ لکھپت جیل میں بند کر دیا

ان کے گھروں کو تالے لگا دیے اور ا ن سے کہا کہ دیت لے کر صلح کر لیں ورنہ نتائج کے لیے تیار رہو اس ساری کارروائی سے پاکستانی فوج ، صدر پاکستان آصف زرداری اور نواز شریف کو آ گاہ کر دیا گیا تھا۔ بلآخر 16 مارچ 2011 کو آخری پیشی والے دن میرے لئے سب سے حیرت کی بات یہ تھی

کہ وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ کمرہ عدالت میں موجود نہ تھے بعد میں انہوں نے بتایا کے ان کو کئی گھنٹوں تک قید میں رکھا گیا تھا ۔ عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو مجھے میری امریکی ساتھی نے بتایا کہ عدالت کو شرعی عدالت میں تبدیل کر دیا گیا ہے میں بہت پریشان تھا

صحافیوں سمیت سب کو باہر نکال دیا لیکن جنرل شجاع پاشا وہیں موجود رہے اور عدالتی کارروائی سے کیمرون منٹر اور امریکی حکام کو میسج کر کے آگاہ کرتا رہے پھر ورثا آتے گئے اور دیت کی رقم وصول کرتے گئے ان کو یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ میڈیا کے سامنے کچھ نہ کہنا

دیت کی رقم 23 کروڈ روپے ادا کی گئی جو کہ حکومت پاکستان نے ادا کی۔ آخر میں مجھے پچھلے دروازے سے باہر نکال دیا گیا میں لاہور ایئر پورٹ پہنچا اور مجھے خصوصی طیارے کے ذریعے پہلے افغانستان پھر امریکہ پہنچا دیا گیا ۔ جنرل شجاع پاشا کی مدت ملازمت اس پیشی کے دو دن بعد

پوری ہو رہی تھی لیکن پھر ایک سال مزید توسیع کر دی گئی جبکہ جاوید چوہدری سمیت بہت سارے پالشیوں نے جنرل شجاع پاشا کو معصوم قرار دیا اور لکھا کہ انہوں نے چیف جسٹس افتخار چودھری مقتول کے وارثان اور اپوزیشن لیڈر نواز شریف کو زرداری کے کہنے پر راضی کیا

کیونکہ وہ امریکیوں کے آگے لیٹ گئے تھے جنرل پاشا نے آئین کے مطابق انکا حکم مانتے ہوئے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کر کے صلح کرائ تھی ورنہ جنرل صاحب اپنے جوانوں کا خون معاف کرنے کے ہرگز تیار نہیں تھے ۔ میں جاوید چوہدری اور سارے بوٹ چاٹ لوگوں کو سچا مان لیتی ہوں

کیونکہ امریکیوں سمیت پوری دنیا ہماری فوج کے خلاف ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نے کتاب میں فوج کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹ بولا ہو گا میں مان لیتی ہوں زرداری اور نواز بزدل تھے انہوں نے ایک دلیر محب وطن جرنیل کو اپنے جوانوں کا سودا کرنے پر مجبور کیا لیکن کیا ایبسولیوٹلی ناٹ کہنے والا بزدل ہے۔۔؟

جس کے حکم پر ہندوستان کے دو طیارے گرائے گئے تھے انکے گھر میں گھس کر ان پر میزائل برسائے گئے۔ جو ہر فورم ہر ملک میں اپنی فوج اپنے لوگوں کا مقدمہ لڑتا رہا اپنے جوانوں کو پرائ جنگ میں جھونکنے سے انکار کرتا رہا۔ آج اسکے خلاف پریس کانفرنسز ہوتی ہیں محب وطن لوگ

اسے ملک دشمن آئین دشمن غلاظت اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں۔ اگر دوہزار دس والے جرنیل بہادر اور حکمران بزدل تھے تو آج والے سارے صاحب بہادروں کو میں کیا کہوں۔ اگر دوہزار دس والے جرنیل اتنے فرمانبردار تھے کہ صدر اور وزیراعظم کے کہنے پر اپنے جوانوں کے خون کا سودا کر سکتے تھے

تو جب خان روس کا دورہ کر رہا تھا تب کونسے آئین کی رو سے باجرہ امریکیوں کو کہہ رہا تھا ہم امریکی وفادار ہیں آپکو اڈے بھی دیں گے آپکے لیے اپنے جوان اور عوام سب کو مروائیں گے۔ نو اپریل کو عدالتیں کھلوانے ای سی ایل میں نام ڈلوانے قیدی وین اسمبلی کے باہر لانے والے

کونسی آئینی ڈیوٹیز کر رہے تھے۔ اور دوہزار دس والے بہادر جرنیل کس منہ سے خان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے آئیں گے کیونکہ اس نے تو کسی ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے کا حکم نہیں دیا۔۔۔

@threadreaderapp unroll


Follow us on Twitter

to be informed of the latest developments and updates!


You can easily use to @tivitikothread bot for create more readable thread!
Donate 💲

You can keep this app free of charge by supporting 😊

for server charges...