Shah Owais Noorani Official

Shah Owais Noorani Official

13-08-2022

08:20

جج : تم پر الزام ہے کہ بحیثیت وزیر اعظم تم نے 50 ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔ ملزم : آپ تحقیقات کر کے سچ سامنے لائیں میں ذمہ داری قبول کروں گا۔ ایک ماہ بعد جج: تم پر الزام ہے کہ تم نے ملکی سرمایہ لوٹ کر پانامہ میں آف شور کمپنیاں بنائی ہوئی ہیں ۔

ملزم : جناب اگر یہ الزام ثابت ہو جائے تو میں سزا کے لئے تیار ہوں ۔ دو ماہ بعد جج : تم پر الزام لگایا گیا ہے کہ تم نے منی لانڈرنگ کے ذریعے مال بنا کر لندن میں چار فلیٹس خریدے ہیں۔ ملزم : جج صاحب میں بھاگنے والوں میں سے نہیں آپ تحقیق کریں میں جوابدہ ہوں ۔

چار ماہ بعد جج : تم پر الزام ہے کہ تم نے ترقیاتی منصوبوں پر 10 ارب روپے کمیشن کھایا ہے ۔ ملزم : جناب اگر یہ الزام ثابت ہوجائے تو میں سزا کے لئے تیار ہوں ۔ سات ماہ بعد جج : تم پر الزام ہے کہ 2007 میں تم سعودی عرب میں اپنے بیٹے کی فرم میں 10000 پر ملازمت کرتے تھے ۔

ملزم : جی جناب یہ درست ہے اور میں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اقامہ کی کاپی لف کی ہے ۔ جج : تم بیس مہینے تک کمپنی میں ملازمت کرتے رہے لیکن دو لاکھ تم نے اپنے سرمایہ میں شو نہیں کئے ۔ ملزم : جناب میں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ لی ہی نہیں۔

جج : لیکن تم اس دو لاکھ کے مالک تو تھے نا تم نے الیکشن کمیشن کو فراہم کی گئی معلومات میں جھوٹ بولا ہے لہذا تم صادق و امین نہیں ہو لہذا یہ عدالت آپ کو تاحیات نااہل کرتی ہے۔ یہ ہے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کی کہانی-


Follow us on Twitter

to be informed of the latest developments and updates!


You can easily use to @tivitikothread bot for create more readable thread!
Donate 💲

You can keep this app free of charge by supporting 😊

for server charges...